ڈی سی آفس میں مردے کا انگوٹھا لگا کر جائیداد نام پر ٹرانسفر

اولس نیوز کوئٹہ )اب تو لاشیں بھی کرپشن سے محفوظ نہیں رہی مردے کا انگوٹھا لگا کر جائیداد نام پر ٹرانسفر کرادیا

0

 

کمشنر آفس نے ایک انوکھاکیس کیا ہے یہاں پہ دو سب رجسٹرارایک جوئنٹ سب  رجسٹرار صاحب بیٹھتے ہیں وہ ایک سیکشن میںڈپٹی کمشنر کے انڈر آتا ہے جوکہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے ہوتاہے انوکھاکیس یہ ہے کہ مردے کی انگوٹھا لگا کے پینتیس لاکھ کے عوض میں وراثت کر دی جس دن وراثت ملنے ریکارڈ کے اگلے دن اس کے بیٹے نے وہ جائیداد بھیج کر کے دوسرے کے نام پر ٹرانسفر کروایادیا جس کے سارے شواہد میرے ساتھ موجود ہے جوائنٹ رجسٹرار صاحب کی جومہنے کی آمدنی ہوتی ہے جو جائیدادوں کے ٹرانسفر کے سلسلے میں  بارہ سے تیراہ کروڑ روپے انکو ملتی ہیں اور ایک کروڑ روپے باقی یہ بھتہ ملتا ہے جو منسٹرصاحب منسٹر کے پی ایس صاحب اے ڈی سی صاحب اور اے ڈی سی صاحبہ اس کے علاوہ اسکو بارہ کروڑ روپے پرملتا ہے
(لوکل سرٹیفکیٹ)
قانون یہ ہے کہ وہ صرف کوئٹہ کے ہی لوکل بنا نے کا پابند ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں سے ڈیرہ اسماعیل خان پنجاب خیبر پختونخوا اوربلوچستان کے باقی اضلاع کے لوکل سرٹیفکیٹ بھی بنائے جاتے ہیں جس کی قیمت ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک ہوتی ہے یعنی ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر دن میں دس لوکل بنائے اورہر ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے لے تو اس کے مہنے کی آمدن نکال کر کے اس کے بارہ کروڑ اور چار کروڑ یعنی سولہ کروڑ روپے بنتا ہے

(اسلحہ لائسنس)
اسلحہ لائسنس کی جو فیس ہوتی ہے لیگل جو خزانے میں جمع ہوتا ہے وہ پانچ ہزار ہوتی ہے پانچ ہزار کی بجائے یہاں پر برملا دن میں بیس سے پچیس اسلحہ لائسنس بنائے جاتے ہیں جس کی قیمت پچیس ہزار رو پے ہوتی ہیں

(سپرنٹنڈنٹ ریونیو)

یہاں پہ جو ریونیو کا سارا ریکارڈ کا انچارج ہوتا ہے وہ پھر کیاکرتا ہے وہ اگر میرا کروڑوں روپے
کی جائیداد کا ریکارڈ ہے اگر میں کسی عدالت میں لانا چاہتا ہوں لیکن وہ ریکارڈ کو غائب کرتے ہیں واپس ریکارڈ کو لانے کے عوض میں کروڑوں روپے وصول کرتے ہیں پینتیس لاکھ روپے ریکارڈ کے مطابق ہوتا ہے،چار سیکشن کا آمدن مختلف لوگوں کو جاتے ہیں سابقہ عمرانی صاحب کو۔چوبیس لاکھ روپے ایک سب رجسٹرارکی طرف سے ملتا تھا
(نگران سیٹ اپ)
بدقسمتی سے جو نگران سیٹ اپ آیا ہوا ہے جس کے پاس اختیارات بھی بہت کم ہے ان کا بھی یہی خیال ہے کہ ہمیں بھی اتنے پیسے دیا جائے لیکن یہاں کے جو لوگ ہیں کلرک سے لے کر کے ڈپٹی کمشنر کمشنر تک جو بھتہ وصول کرنے والے لوگ ہیں وہ بھی بڑے سیانے ہیں وہ نگران سیٹ اپ کو نگران سیٹ اپ کے حساب سے نوازتے ہیں لیکن ان کے بھی پرائیویٹ ایجنٹس جو ہیں وہ یہاں پہ گھومتے پھرتے آپ کو نظر آئیں گے جس طرح کچھ دن پہلے میں نے پولیس میں پھر کسٹم میں جوا سپیشل کو دیکھا گیا تھا مگر ڈسی آفس بھی اس سپیشل سے خالی نہیں رہا

Leave A Reply

Your email address will not be published.