اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ آپس کی نوک جھوک چلتی رہتی ہے لیکن ہمیں ملکی مفاد میں ایک ہونا چاہیئے، ہم سیاسی استحکام کیلئے تحریک انصاف کی طرف ہاتھ بڑھانے کو تیار ہیں، پیپلز پارٹی نے ہم سے پہلے پی ٹی آئی کو مل کر حکومت بنانے کے لیے کہا تھا، اگر پی ٹی آئی اکثریت میں تھی تو حکومت بنا لیتی۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں سیاسی استحکام سب سے بڑی ضرورت ہے، سیاسی استحکام آئے گا تو ملک میں معاشی استحکام آئے گا، تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں موجودہ وزیراعظم شہباز شریف نے اسمبلی میں عمران خان کو کہا کہ وہ ان کے ساتھ میثاق جمہوریت کرلیں، سیاسی کشمکش اپنی جگہ ملکی مسائل کے حل کے لیے مل کرکام کریں لیکن عمران خان نے ہاتھ جھٹک دیا۔وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ہم نے اب بھی فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر ملک کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے، الیکشن میں ہمارا خیال تھا ہمیں 90 سے 110 تک سیٹیں مل جائیں گی مگر ہمیں اتنی سیٹیں نہیں ملیں، پھر بھی ہم عوامی رائے کا احترام کرتے ہیں، ہم نے پی ٹی آئی سے کہا اگر وہ سمجھتی ہے اس کے پاس اکثریت ہے تو وہ حکومت بنائے، پیپلز پارٹی نے بھی ان کو یہی تجویز دی، جس طرح ہم آگے آکر ملکی مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں، تحریک انصاف کے لوگ بھی سامنے آکر عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کرسکتے تھے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام یورپی ممالک اور دنیا کے دیگر بڑے ممالک مل کر بھی تیل کی عالمی منڈی پر اثر انداز نہیں ہوسکتے، پاکستان جیسے چھوٹے ملک کے لیے ایسا کرنا اور مشکل کام ہے، بعض ممالک کے ساتھ ہمارے معاہدے ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں تھوڑی سے رعایت مل جاتی ہے مگر یہ ڈسکاونٹ معنی خیز نہیں ہوتا، بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل و گیس کی قیمت اور روپے اور ڈالر کا تناسب بہت اہم ہے، ہم تیل ڈالر میں خریدتے ہیں مگر پیٹرول پمپوں پر ڈالر میں نہیں بیچتے۔مصدق ملک کا کہنا ہے کہ جب ہم پیٹرول پمپوں سے روپیہ جمع کرلیتے ہیں تو پھر ہمیں ڈالر خریدنا پڑتا ہے تاکہ ہم پیٹرول خرید سکیں، بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل و گیس کی قیمت حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے لیکن ملک کی سلامتی اور اکنامک فریم ورک میں استحکام بہت ضروری ہے، ملک کی اپنی تیل و گیس کی پیداوار میں سالانہ تقریبا 8 سے 9 فیصد کمی آرہی ہے، اس پیداوار کو بڑھانے کے لیے ہمیں اہداف دیے گئے ہیں، ہمیں درآمدات اور برآمدات کا تناسب بھی ٹھیک کرنا ہوگا۔